آسان سوالوں کے جواب دیں ۔۔۔۔ اپنی انتخابی حکمت عملی خود بنائیں

خوش آمدید ۔ اگر آپ حالیہ انتخابات میں بطور امیدوار شامل ہیں تو یہ رہنما خاکہ آپ کے لیے مفید ہے۔

اردو زبان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا رہنما خاکہ ہے جس کا مقصد عام لوگوں کی انتخابات میں موثر شراکت کو فروغ دینا ہے۔ خاکے سے ان سیاسی امیدواروں کو زیادہ فائدہ ہوگا جو پہلی بار انتخابی عمل میں شامل ہورہے ہیں کیونکہ ان کے لیے انتخابی حکمت عملی بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان سینٹر فار ڈیویلپمنٹ کمیونی کیشن کے پلیٹ فارم سے ہم نے کوشش کی ہے کہ اس رہنما خاکے کے ذریعے نئے اور پرانے، تمام سیاسی کارکنوں کے لیے، انتخابی حکمت عملی کی تیاری کو آسان بنائیں۔ خاکے میں چند بنیادی نوعیت کے سوالات پوچھے گئے ہیں جن کا مقصد آپ کی بطور امیدوار اہلیت، انتخابی حلقے کے بارے میں معلومات، قوانین سے آگاہی اور اپنے کارکنوں کو منظم کرنے کی استعداد جیسے امور کو اجاگر کرنا ہے۔ ان سوالوں کے جواب دے کر آپ اپنی انتخابی مہم کی ضروریات کو سمجھ سکیں گے اور زمینی حقائق کے مطابق موثر حکمت عملی بناسکیں گے۔ ہوسکتا ہے جب آپ تمام سوالوں کے جواب دے چکیں تو آپ کو یہ احساس ہو کہ ابھی کئی اہم نکات پر کام ہونا باقی ہے جنہیں نظرانداز کردیا گیا ہے یا آپ کو مزید معلومات کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے پاس کچھ سوالوں کے جواب ابھی نہ ہوں تاہم ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے آپ کو تحقیق کرنی پڑے گی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی سوال کا جواب آپ محتاط اندازے یا تجربے کی بنیاد پر درج کردیں۔ لیکن ایسا تب ہی کرنا چاہئیے جب آپ کے پاس کوئی اور راستا نہ ہو۔ یہ ضروری ہے کہ سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے آپ خود کوئی مدت متعین کریں تاکہ آپ کی انتخابی حکمت عملی وقت پر مکمل ہوسکے۔ اگر حکمت عملی کی تیاری پر آپ کو مزید رہنمائی، تربیت یا معلومات کی ضرورت ہو تو ادارے سے رابطہ فرمائیں۔

یہاں موبائل اور لینڈ لائن نمبرز لکھیں
اپنی عمر، جنس، ازدواجی حیثیت، اہل خانہ کی تعداد، قبیلہ، ذات، برادری، فرقہ، مذہب، سیاسی وابستگی، شوق، رجحانات اور دیگر اہم تفصیلات بتائیں۔ یہاں تفصیلات لکھنا لازمی نہیں۔
اگر آپ آزاد امیدوار ہیں تو وہ لکھیں۔ اگر کسی سیاسی جماعت کے نمائندے ہیں تو اس کا نام لکھیں۔ اگر آپ کسی اتحاد کی جانب سے امیدوار ہیں تو اس اتحاد کا نام لکھیں۔
ان علاقوں کے ناموں کی مکمل فہرست بنائیں۔ یہ فہرست اپنے مرکزی دفتر میں لگائیں۔ اگر پورے حلقے کا نقشہ بناسکیں تو اچھا ہے۔
یعنی کتنے مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے، جوان، معذور، خواجہ سرا وغیرہ اس حلقے میں رہتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس بارے میں عدد اور فی صد تعداد دونوں لکھے جائیں۔ اگر محلہ وار یا علاقہ وار آبادی کا تخمینہ ہو تو اچھا ہے۔
یعنی حلقے میں کتنے مدرسے، مکتب، اسکول، کالج، یونیورسٹیز، ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، کوچنگ سینٹرز، ریسرچ انسٹی ٹیوٹس اور ایسے ہی دیگر تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کلینک، ہسپتال ، دواخانے، پُل، نہریں، پوسٹ آفس، سرکاری ادارے، اہم نجی ادارے، ہوٹل، ہاسٹل، مساجد اور دیگر مذہبی مقامات، بنک، وغیرہ کتنے ہیں اور کہاں کہاں موجود ہیں۔
آپ کے پاس علاقے کے اہم مسائل کا جامع تجزیہ ہونا چاہئیے جو حقیقی اور ٹھوس اعدادوشمار پر مبنی ہو
یعنی حلقے میں کس مذہب، فرقے اور نظریے کے حامل لوگ رہتے ہیں۔ ان کی علیحدہ علیحدہ فی صد تعداد کیا ہے۔ اس کے علاوہ کون کون سی برادریاں، نسل، ذات اور قبیلے کے لوگ رہتے ہیں۔ ان کی آبادیاں حلقے کے کس کس علاقے میں موجود ہیں۔ کون سے علاقے میں کس برادری، فرقے یا گروہ کا اثرو نفوذ ہے؟
یعنی کتنے فی صد لوگ زراعت، تجارت، ملازمت، ٹھیکے داری یا بیرون ملک ملازمت وغیرہ کرتے ہیں؟
اس سوال کا جواب ڈھونڈیں کہ عوام کی مالی حالت پچھلے چند برس کے دوران خراب ہوئی ہے یا بہتر ہوئی ہے؟۔ عوام کی غربت میں اضافہ ہوا ہے یا کمی ہوئی ہے؟۔ اس بارے میں آپ کے پاس کوئی تحقیق ہے یا نہیں؟ آپ کی رائے غربت کے بارے میں کس ذریعے پر مبنی ہے؟ کیا اس بارے میں کسی این جی او، سرکاری یا کاروباری ادارے نے کوئی سروے یا تحقیق وغیرہ کی ہے؟۔ اگر ہاں تو اس رپورٹ کو حاصل کریں اور اپنی حکمت عملی کا حصہ بنائیں۔
یعنی یہاں کتنے لوگوں کے پاس لینڈ لائن ٹیلی فون ہیں۔ کتنے لوگ موبائل ٹیلی فون استعمال کرتے ہیں؟۔ ان کے پاس موجود ٹیلی فون کیسے ہیں یعنی عام فون ہیں یا اسمارٹ فون ہیں۔ کتنے لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں؟۔ علاقے میں کتنے کیبل نیٹ ورکس ہیں اور کتنے کیبل ٹی وی کنکشنز ہیں؟ کتنے لوگ ریڈیو سنتے ہیں اور ایف ایم نشریات کا دائرہ کہاں تک ہے؟
حلقے میں عوام اپنے امیدواروں کی زبان سے ان مسائل اور معاملات کے بارے میں سننا چاہتے ہیں، جن کا زندگی پر گہرا اثر پڑرہا ہے۔ اگر آپ کے پاس عوام کی زندگی سے متعلق اہم ایشوز کی مکمل تفصیل ہوگی تو آپ کی تقریروں کا معیار بھی بہتر ہوگا اور عوام میں پسندیدگی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
یہاں اپنے انتخابی حلقے کی سیاسی تاریخ، بڑے گھرانے، طاقت ور گروپس، اہم لیڈرز، ووٹ بنکس کی اقسام، ماضی میں جیتنے اور ہارنے والے گروپس کی تاریخ، سیاسی دوستیاں اور دشمنیاں، مقدمات اور باہمی تنازعات کی تاریخ، آپس میں لین دین اور رشتے داریوں کی تاریخ وغیرہ لکھیں۔
اس خانے میں یہ لکھیں کہ جیتنے کے بعد آپ کو کیا کیا کام کرنے ہوں گے؟
اس سوال کا جواب ضروری ہے۔ آپ کے پاس تمام متعلقہ قوانین کی کاپیاں ہونی چاہئیں۔ نیز آپ کی انتخابی ٹیم کو ان قوانین سے آگاہ ہونا چاہئیے تاکہ ان قوانین کی خلاف ورزی سے محفوظ رہ سکیں اور آپ کے مخالفین کو اعتراض کرنے کا موقع نہ مل سکے۔
یہاں یہ بتائیں کہ انتخابی قوانین کے تحت آپ کو کون کون سے قانونی شرائط پوری کرنی ہیں تاکہ نامزدگی کے لیے اہل ہوسکیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے اس اکاؤنٹ کے لیے شرط عائد کی گئی ہے۔ اس اکاؤنٹ سے ہی آپ اپنے تمام انتخابی اخراجات کرنے کے مجاز ہیں۔ انتخابات کے بعد، آپ کو اسی اکاؤنٹ سے ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ جمع کرانا ہوگا۔
اس سوال کا جواب تفصیل سے دیں۔
یہ تفصیلات بہت اہم ہیں۔ ان سے آپ کو اپنی انتخابی مہم کو تشکیل دینے، بجٹ بنانے، ووٹرز کو موبلائز کرنے، ان کو لانے اور لے جانے میں معاونت یا رہنمائی کرنے اور پولنگ ایجنٹس وغیرہ کی دستیابی میں مدد ملے گی
الیکشن کمیشن اگر چاہے تو کسی انتخابی حلقے یا پولنگ اسٹیشن پر ووٹرز کی کم تعداد کو سامنے رکھتے ہوئے، پولنگ کا عمل منسوخ یا معطل کرسکتا ہے۔ آپ کو اس تعداد کے بارے میں معلوم ہونا چاہئیے۔
ہر انتخابی حلقے میں کچھ عناصر ناجائز، غیر اخلاقی اور منفی سیاسی حربوں کا استعمال کرتے ہیں۔ آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ آپ کے حلقے میں کون کون ایسا کرتا رہا ہے اور ان کی حکمت عملی کیا ہوتی ہے تاکہ ان کا سدباب کرسکیں۔
یعنی کیا یہاں سیلاب، قحط، خشک شالی، بارشوں کی کمی، متعدی ۔ بیماریاں یعنی ڈینگی وغیرہ اور زلزلے یا لینڈ سلائیڈ وغیرہ ہوتے ہیں؟ کیا حلقے میں عوام کو پانی کی کمی جیسے ماحولیاتی مسائل کا بھی سامنا ہے؟ کیا ان مسائل کی وجہ سے آبادی کا انخلا بھی ہوا ہے؟ کیا لوگ اپنے گھر چھوڑ کر دوسری آبادیوں کی طرف گئے ہیں؟
کیا آپ اپنے انتخابی حلقے کے عوام میں تبدیلیوں سے آگاہ ہیں؟ کیا یہ تبدیلیاں اچھی ہیں یا بری؟۔ آپ کے پاس اس بارے میں کیا ٹھوس ثبوت ہیں؟۔ کیا اس بارے میں آپ کے پاس مستند اعدادوشمار ہیں؟
امیدوار کے لیے اس بات کا سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اس کے حلقے میں موجود ووٹرز کی ذہنی رو کیا ہے۔ کیا وہ خوش ہیں یا ناراض۔ کیا وہ پرامید ہیں یا مایوس۔ امیدوار کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہونا چاہئیے تاکہ وہ انہی نکات پر بات کرسکے جو عوام سننا چاہتے ہیں۔
یہاں عوام کے لیے بسوں، گاڑیوں، سڑکوں کی حالت، اور ایسے ہی دیگر حقائق درج کریں۔
آپ کو ایک جائزہ بنانا ہوگا ان مقامات اور ذرائع کا جن سے حلقے کے ووٹر تفریح حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً کیا حلقے میں پارک، سینما گھر، گراؤنڈ، پکنک پوائنٹس، دریا کا کنارا، ، سمندر کا ساحل، چوٹیاں، ہل اسٹیشن، گلیشئیر، جھیل، تالاب، آبشار، فشنگ پوائنٹس، کھانے پینے کے مراکز، ہوٹل وغیرہ موجود ہیں؟۔ ان مقامات کا دورہ آپ کی انتخابی مہم کو بہتر بناسکتا ہے۔ ان مقامات کا نقشہ بنائیں اور ان کا دورہ کرنے کی حکمت عملی ترتیب دیں جہاں آپ کو فیمیلیز سے ضرور ملنا چاہئیے اور ان کے ساتھ اپنی تصویریں سوشل میڈیا پر شئیر کرنی چاہئیں۔
مثلاً بازار، منڈیاں، کارخانے اور صنعتیں وغیرہ
مثلاً مزدور یونینیں، این جی اوز، بار کونسل، ڈاکٹروں اور انجینئیروں کے گروپ، اساتذہ کی تنظیمیں، تاجروں کی تنظیمیں، چیمبرز آف کامرس، مقامی منڈیوں کے گروپس، خواتین کی تنظیمیں، اسپورٹس کلب، فنکاروں اور دانش وروں کے گروپس،
ٹفصیل لکھیں کہ آپ کے حریف کون ہوسکتے ہیں۔ ان کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ ان کی سیاسی تاریخ کیا ہے۔ وہ کن موضوعات پر کام کرتے ہیں۔ ان کی خوبیاں، خامیاں اور مسائل کیا ہیں۔
یہ بتائیں کہ حلقے میں کتنی سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان کے کتنے ووٹرز اور کارکن ہیں۔ ان کی سیاسی اور انتظامی طاقت کیسی ہے۔ ان کی خوبیاں اور خامیاں کیا ہیں۔ ان دنوں وہ کن ایشوز پر کام کررہی ہیں۔ ان کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ آپ کو ان پر کہاں برتری حاصل ہے۔ نیز کہاں آپ ان سے کمزور حیثیت کے حامل ہیں
یعنی عوام پر کن لوگوں کا اثر ہے۔ جیسے مذہبی رہنما، اساتذہ، سوشل ورکر، مزدور لیڈر، صحافی، کالم رائٹر، بلاگر، تاجر لیڈر وغیرہ۔ ان میں سے کون آپ کے ھریف یا حلیف بن سکتے ہیں۔
کیا آپ کے حلقے کے لوگ اخبار، ٹیلی فون، ٹی وی، سماجی تقریبات، کیبل نیٹ ورک، ہوٹل، عبادت گاہ، بازار اسکول، دکان، دفتر، بنک، پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔
ہر الیکشن میں بے شمار افراد حصہ لیتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ عوام کی مکمل اور بھرپور توجہ حاصل کرے۔ اگر آپ اس ہجوم میں منفرد نظر آنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی ہمہ جہت اور موثر برانڈنگ اسٹریٹجی بنانی ہوگی تاکہ الگ پہچانے جائیں اور آپ کی انفرادیت قائم ہوسکے۔
حلقے میں کتنے اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی کے دفاتر ہیں؟۔ یہ کس زبان میں شائع یا نشر ہورہے ہیں۔ کون سے ذرائع ابلاغ، کس ان کے دفاتر کے پتے، فون نمبر، متعلقہ افراد کے نام اور رابطہ نمبر، ای میل اور واٹس ایپ گروپ کی تفصیل لکھیں۔
اپنا تجزیہ لکھیں کہ مقامی اخبارات، میگزین، ریڈیو اور ٹی وی چینلز، کیبل نیٹ ورکس، ویب سائٹس اور دیگر سوشل میڈیا گروپس پر کس کا اثر و نفوذ ہے؟ یہ ذرائع ابلاغ کس کی بات مانتے ہیں اور ان کے مفادات کہاں کہاں ہیں۔
آپ کے پاس تمام مقامی صحافیوں اور اہم نمائندوں کی رابطہ فہرست ہونی چاہئیے تاکہ ان سے تیزی سے رابطہ کرسکیں۔ ان میں وہ صحافی بھی ضروری ہیں جن کو الیکشن کمیشن کی طرف سے رپورٹنگ کے لیے خصوصی پاس جاری کئیے جائیں۔
ان میں مقامی، قومی اور بین الاقوامی زبانوں کے نیوز پروگرامز شامل ہونے چاہئیں۔ فہرست میں پروگرام کا نام، چینل، میزبان کا نام اور رابطہ تفصیلات، نشریات کا وقت، اور آئندہ پروگراموں کے ممکنہ موضوعات شامل ہوسکتے ہیں
آپ کی اس فہرست میں رپورٹر کا نام، اخبار، چینل، عہدہ یا بیٹ، ڈیڈلائن کا وقت، پسندیدہ میڈیم یعنی پرنٹ پریس ریلیز، ای میل، واٹس ایپ، میسینجر، فیس بک ان باکس، سی ڈی یا یو ایس بی وغیرہ درج ہونا چاہئیے تاکہ آپ کی خبر شائع یا نشر ہوسکے۔
اس بات پر غور کریں کہ میڈیا میں آپ کے دوست اور ناقد کون ہیں۔ آپ کی انتخابی مہم کی کوریج وہ کس طرح کریں گے۔ نیز کن صحافیوں سے آپ کو کوئی ردعمل نہیں مل رہا۔ انہیں اپنے ساتھ ملانے کے لیے کیا ہونا چاہئیے۔
مکمل فہرست بنائیں تاکہ آپ کو میڈیا میں اپنی حمایت کا اندازہ ہوسکے
انتخابی مہم کے دوران آپ کو کوشش کرنی چاہئیے کہ مختلف میڈیا میں اپنی شرکت کو بڑھائیں۔ اس کے لیے آپ کو اخباری انٹرویوز، کالمز، ٹی اور ریڈیو ٹاک شوز میں شرکت، سیمیناروں میں شرکت وغیرہ کو بڑھانا ہوگا۔ ان تمام سرگرمیوں کو قبل از وقت پلان کریں۔
مکمل تفصیل سے اپنا ایڈورٹائزمنٹ پلان لکھیں
سوشل میڈیا آپ کو منٹ منٹ کی خبر دیتا ہے۔ اس کے ذریعے آپ کو اپنی انتخابی مہم کو فوکس کرنے اور مزید موثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ اس بارے میں آپ کے پاس تجزیے کا پلان ہو تاکہ آپ ٹرینڈز کو مانیٹر کرسکیں اور پھر ضروری تبدیلیاں لاسکیں۔
آپ کے پاس اپنے حلقے میں دہشت گردی اور امن و امن کی خراب صورت حال سے متاثرہ لوگوں کا جائزہ ہونا چاہئیے تاکہ ان کے بارے میں بات کرسکیں اور ان کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا سکیں۔ یہ جائزہ آپ کو اپنی انتخابی مہم کی تیاری اور جلسے جلوس کا تحفظ کرنے میں بھی معاونت کرسکتا ہے۔
آپ کو ایک جائزہ مرتب کرنا ہوگا جس میں اس بات پر تفصیل سے غور کیا جائے کہ آپ کی انتخابی مہم اور نعرے یا وعدے کن لوگوں کے لیے پُرکشش ہیں اور کون لوگ اس سے متاثر ہوکر آپ کے حامی بن سکتے ہیں آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ آپ کے حامی کہاں ہیں اور کیسے آپ کی انتخابی مہم میں عملاً شرکت کریں گے۔
الیکشن کے دن آپ کے ووٹرز، پولنگ ایجنٹس اور دیگر حمایتیوں کو ذمے داریاں ادا کرنے کے لیے گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کی ضرورت پڑے گی۔ ان گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کا قبل از وقت انتظام ہونا ضروری ہے۔ آپ کو پتا ہونا چاہئیے کہ الیکشن والے دن اور انتخابی مہم کے دوران آپ کو کتنی گاڑیوں کی ضرورت پڑنے والی ہے تاکہ ان کا بجٹ مختص کرسکیں اور ان کو بروقت حاصل بھی کرسکیں۔
ضروری ہے کہ آپ کے پاس اپنے ہر کارکن اور ذمے دار کی تفصیلات پر مشتمل مکمل فہرستیں ہوں تاکہ جب ضرورت پڑے تو ان سے بہ آسانی رابطہ کیا جاسکے اور انہیں اہم امور پر آگاہ کیا جاسکے۔
انتخابی مہم کے دوران آپ کو متعدد میٹنگز کرنی ہوں گی۔ ان کا انتظام، اخراجات کا تخمینہ اور ڈاکیومینٹیشن ضروری ہیں۔
عوام کو علم ہونا چاہئیے کہ آپ ان کے انتخابی حلقے سے وابستہ ہیں اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ آپ خود اس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
امیدوار کو بتانا ہوگا کہ اس کا تعلق ایک باکردار گھرانے سے ہے اور اس کی تربیت اور پرورش بااصول اور منظم لوگوں میں ہوئی ہے۔
آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ، تیکنیکی طور پر اہل اور دینی و دنیاوی معاملات پر اچھی طرح نظر رکھتے ہیں
عوام کو علم ہونا چاہئیے کہ ان کا امیدوار عملی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی ایک کامیاب انسان ہے اور اس نے اہم کارنامے انجام دئیے ہیں
عوام کو پتا ہونا چاہئیے کہ آپ انتخابی سیاست سے واقف ہیں اور ماضی میں جیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس سے آپ کے بارے میں مثبت تاثر پیدا ہوگا
عوام کو پتا ہونا چاہئیے کہ ماضی میں آپ کون کون سے ایشوز پر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ان سے عوام کو آپ کی انتخابی سیاست کا انداز، ذہنی سطح اور مقاصد کا علم ہوگا۔
اپنی انتخابی مہم کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے یہ بات ضرور سوچیں کہ آپ کو اپنے بارے میں اہم اور مستند لوگوں کی رائے بھی حاصل کرنی ہے۔ اگر آپ کے بارے میں کوئی کتاب، کالم، مضمون، ٹی وی شو، ویڈیو، ڈاکیومینٹری، ریڈیو پروگرام، ٹاک شو، فیس بُک پیغام ، پوسٹر، پمفلٹ، اخباری بیان یا کچھ بھی شائع ہوا ہے یا موجود ہے تو اس کی کاپی حاصل کریں تاکہ انتخابی مہم کے دوران اسے عوام میں پھیلایا جاسکے
عوام کو پتا ہونا چاہئیے کہ ماضی میں آپ نے ان سے کون کون سے وعدے کیے تھے اور ان میں سے کون کون سے وعدے پورے ہوچکے ہیں۔ اس تفصیل کی بہت اہمیت ہے اور یہ بات آپ کی انتخابی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہونی چاہئیے۔
یہ اہم سوال ہے۔ امیدوار کو خود شناس ہونا چاہئیے۔ اسے معلوم ہونا چاہئیے کہ اس کی شخصیت کے کون سے گوشے مضبوط اور کون سے کمزور ہیں۔ امیدوار کو ذاتی تجزیہ کرنا چاہئیے کہ عوام اس کی شخصیت کے کون سے پہلو کو کس نظر سے دیکھیں گے۔ اس جائزے سے آپ کو یہ علم بھی ہوگا کہ آپ کو اپنی خامیاں دور کرنے کے لیے کس قسم کی ٹریننگ لینی چاہئیے۔
ہر امیدوار کو اپنے مخالفین کی جانب سے تنقید کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی انتخابی حکمت عملی میں مخالفین کی تنقید کے جواز اور ان سے نمٹنے کی دلیلیں موجود ہونی چاہئیں۔
انتخابی مہم چلانے کے لیے وسائل کا شمار کرنا نہایت اہم ہے۔ آپ کو اس کی مکمل تفصیل مرتب کرنی چاہئیے تاکہ دیکھ سکیں کہ کب کب اور کہاں کہاں آپ کو آسان یا مشکل مراحل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اس سوال کا جواب ضروری ہے۔ آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ الیکشن لڑنے کے لیے آپ کو کتنی رقم چاہئیے
اندازہ لگائیں کہ آپ کے پاس انتخابی مہم پر خرچ کرنے کے لیے ذاتی حیثیت میں کتنی رقم ہے۔
آپک و علم ہونا چاہئیے کہ انتخابی مہم پر آپ کا مجموعی کتنا پیسا خرچ ہوگا اور اس میں سے کتنی رقم آپ خود خرچ کریں گے، کتنی رقم آپ کی پارٹی خرچ کرے گی اور کتنی رقم آپ کے مقامی حمایتی اور سپورٹرز خرچ کریں گے۔ اس بجٹ کی مکمل تفصیل بنانی ضروری ہے تاکہ آپ مکمل طور پر منظم اور پراعتماد رہ سکیں۔
آپ کو اپنی فنڈ ریزنگ اسٹریٹجی بنانی ہوگی تاکہ اہداف حاصل کرسکیں
انتخابی مہم کا بجٹ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ فنڈز کو مہم کے تمام حصوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ آپ کے پاس ہر حصے میں وسائل کی مناسب مقدار میسر رہے۔
اپنے مخالف امیدواروں کی مکمل فہرست بنائیں۔
اپنے مخالف امیدوار کا بچپن، خاندان اور ماضی کے بارے میں جائزہ لکھیں
آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ آپ کے مخالف امیدواروں کی تعلیمی قابلیت کتنی ہے۔
آپ کو پتا ہونا چاہئیے کہ آپ کے انتخابی مخالفین کس شعبے میں کام کرتے رہے ہیں
آپ کے پاس اپنے مخالفین یا حریفوں کی انتخابی کارکردگی کا مکمل ، جائزہ ہونا چاہئیے۔ اس بارے میں آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ وہ کس وارڈ اور پولنگ اسٹیشن سے کتنے ووٹ لیتے رہے ہیں۔
آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ آپ کے حریف امیدوار ماضی میں کب کب اور کیسے کیسے قانونی بے ضابطگیوں اور قانون شکن سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ آپ کی انتخابی مہم میں ان واقعات کا بیان اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
آپ کو پتا ہونا چاہئیے کہ آپ کے حریف کی کمزوریاں کہاں کہاں ہیں اور آپ کو اپنی انتخابی مہم میں یہ کمزوریاں کیسے استعمال کرنی ہیں۔
آپ کے حریف اپنی مہم میں بہت سے وسائل استعمال کریں گے۔ آپ کو اس بارے میں تیار رہنا چاہئیے۔
آپ کے حریف اپنی انتخابیمہم میں آپ کو نشانہ بنائیں گے۔ آپ کے پاس ان کے ہر الزام کا پہلے سے تیار جواب ہونا چاہئیے تاکہ آپ مکمل اعتماد سے بروقت جواب دے سکیں۔
یہ مواد پیشہ ور ماہرین سے ہی تیار کرانے چاہئیں تاکہ وہ آپ کے حلقے کے عوام کی ذہنی سطح، مزاج، معیار اور مقامی حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے موثر پیغامات بنا سکیں۔
انتخابی جلسے کا شیڈول بہت اہم ہے۔ اس سے آپ کو اپنی ٹائم پلاننگ، لاجسٹکس، کمیونی کیشن اسٹریٹجی، میڈیا پلاننگ اور سوشل میڈیا پلاننگ میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ آپ کو مقامی انتظامیہ مثلاً ڈپٹی کمشنر، الیکشن کمیشن اور پولیس وغیرہ سے ضروری اجازت نامے اور سیکورٹی وغیرہ لینے میں بھی سہولت ہوگی۔
آج کے دور میں الیکشنز جیتنے کے لیے، اچھی کمیونی کیشنز اسٹریٹجی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ آپ کو اپنی کمیونی کیشن اسٹریٹجی بنانی چاہئیے تاکہ اچھے انداز میں عوام کے سامنے جاسکیں اور اپنے حریفوں کو شکست دے سکیں۔
ایک اچھی ٹیم ہی آپ کے انتخابی پیغامات کو دور دور تک موثر انداز میں پہنچا سکتی ہے۔ آپ کو ایک اہل اور مستعد ٹیم بنانی ہوگی جو آپ کی انتخابی مہم کو پہلے تو ڈیزائن کرے اور پھر چلائے تاکہ طے شدہ اہداف حاصل کیے جاسکیں۔
یہ ٹول کٹ آپ کی سہولت کے لیے ہے۔ اگر آپ کو اس میں بہتری کی گنجائش نظر آتی ہے تو ہمیں بتائیں۔

Contact Us for More Information

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Your Message